History is repeating itself

History is repeating itself once again 

تاریخ خود کو دھرا رہی ہے 

جب تمام انسان خدوخال میں ایک جیسے ہیں ، اور انسان لاکھوں سالوں سے اس دنیا پر آباد ہے تو کیا یہ ممکن نہیں کہ جو ہو رہا  ہے پہلے ہو چکا ہو 

تاریخ سے جو قومیں سبق نہیں سیکھتی وہ آنے والوں کے لیے سبق بن جاتی ہیں ۔

تاریخ کے صفحات سے اب تک چار ایسے واقعات ڈھونڈ پایا ہوں تین واقعات جو قومیں تباہ کوئی 

ماہنجوداڑو ۔

     اپنے وقت کی جدید ترین تہذیب لیکن جب پانی نے اپنا رخ  بدلا توقصہ ماضی بنی 

سائن بورڈ ۔

    ایک ملک جسے نااہلی کھا گئی، رشوت اور کرپشن سے ملک چل سکتا ہے رشوت لینے والا گاڑی کے شیشے دروازے اور سیٹیں بیچے گا انجن کی حفاظت کرے گا ۔

نااہل شخص انجن تک بیچ دے گا اور اس کو خبر تک نہ ہو گی ۔

سالار ۔

   ایک سلطنت جو اپنے عروج پر دنیا کے جی ڈی پی کا 25فیصد کماتی تھی ، اس کے سالار ہی اس کی بنیادوں کے دیمک بنے۔

کوفہ والے 

ہمارے روئیےفیصلہ کرتے ہیں کہ ھم کہاں کھڑے ہیں۔

کوفہ والے کون تھے؟

کوفہ والے کون تھے؟

ہمارے روئیے فیصلہ کرتے ہین کی ہم کہاں کھڑے ہیں
غزوہ ہند ہم نہیں ہم سے لڑا جائے گا

سالاراعظم

سالاراعظم

فوجی سالار ہی وہ  دیمک تھے جو سلطنت کی بنیاد کھا گئے ، مسلسل جنگیں ، بغاوتیں آ پسی لڑائیاں وہ نہ کر پائی جو انہوں نے کیا ۔کوئی ریاست کتنی بھی طاقتور ہو بنیاد کو لگنے والے دیمک آخر تاریخ کا  حصہ بنا ہی دیتے
ہیں

کیا بربادی کے راستے پرترقی مل سکتی یے ؟

کیا بربادی کے راستے پرترقی مل سکتی یے ؟

رشوت اور کرپشن سے ملک چل سکتے ہیں
نااہلی سے نہیں

پاکستان میں سیلاب کیوں بڑھتے جا رہے ہیں؟

پاکستان میں سیلاب کیوں بڑھتے جا رہے ہیں؟

پاکستان میں سیلاب جہاں ایک ظرف تباہی پھیلا رہے پہں وہی قدرت کا اخری موقع بھی ہیں

admin

http://fruit-chat.com

میری موج میری سوچ

2 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *