میلہ

میلہ

جاوید چوہدری صاحب نے 2013/14 میں اپنے کالم میں پاکستانیوں کے لیے میلہ دیکھنے والی قوم کی اصطلاح استعمال کی تھی جو اس وقت تو اتنے بہتر انداز سمجھ نہ آئی لیکن ،آج کے حالات میں ویل سمیتھ کی ایک فلم فوکس  کی گائیڈ لائن کی نظرسے دیکھیں تو پاکستان کے حالات کو سمجھنا اور دیکھنا کافی آسان ہے۔

 پاکستان کے اصل معاملات کو سمجھنا ہو صرف اتنا کریں پاکستانی سیاستدان اور خاص کر پاکستانی میڈیا جس طرف اشارہ کر رہے ہو ہوں جو دکھا رہے ہوں جو بتا رہے ہوں جو پڑھا رہے ہوں مت دیکھیں۔۔۔۔

خلیل جبران کا قول

اگر تم وہ دیکھتے ہو جو روشنی دکھاتی ہے 

اگر تم وہ سنتے ہو جوآوازسناتی ہے

تو در حقیقت نہ تم دیکھتے ہو نہ سنتے ہو 

میلہ روز کا

  چند چھوٹی چھوٹی مثالیں میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔۔۔

تحریک انصاف کی حکومت ختم ہوتے ہیں نیشنل اسمبلی سے فاٹا کی کی نشستیں ختم کی جانا۔

افغانستان مین ایک نامی گرامی جنرل کا بغیر سیاستدانوں  کے تنہا جانا ۔ ایک ایک دن میں دس دس پریس کانفرنس ہونا لیکن قوم کو بتانا تک گوارا نہ کرنا۔

  افغان عمائدین کے 52 رکنی  جرگہ میں جانا،جہاں پاکستانی بچوں کے قاتل اور جوانوں کے سروں سے فٹبال کھیلنے والے موجود تھے

سوات کے قصائی کو بطور خیر سگالی ٹوکن استعمال کرنا۔اور رہا کرنا۔

افغان طالبان کا تحریک طالبان پاکستان کے خلاف نہ جانا ۔۔۔

مارچ25 کے فوری بعد 35/ 30 رکنی کورم کا جلد بازی میں درجنوں کے حساب سے قوانین پاس کرنا

مشکل فیصلوں کا اعلان کرنا اور مشکل فیصلوں کی آڑ میں قومی وسائل کی بے دریغ اور بے دردی سے-

نااہلی،اقربا پروری اور چند اثاثے ہتھیانے کے لیے ۔۔

پاکستانی دیوالیہ کا نعرہ لگانا اور مناسب پرافٹ ٹیکنگ اور چند اثاثہ جات کی فروخت کی تیاری کے بعد دیوالیہ کا بیانیہ ختم ہو جانا-

ملک بھر سے من پسند افسران کے ایف آیئ اے میں تبادلے۔۔۔

ایف آیئ یے کا تمام کیس بند کروانے کی کوشش بعد ازاں تمام کیسز ، عدم دلچسپی سے خارج

نیب صرف دکھانے  کا ہاتھی

 افضانستان میں ہوئے معاہدہ /گارنٹی یا معافی کی توثیق کے کے لیے اس  مفتی تقی عثمانی کا افغانستان جانا-

جس باڑ کو لگانے میں سینکڑوں جانیں گئی اچانک کھل جانااور سوات پر خوف کے سائے

طالبان کادوبارہ  ظہور۔۔

 

اصل مرض کہ دوا کی ضرورت ہے

  یہ نظام ،ان تمام بدبودار کردارو اور ان کی عیاشی کی ضمانت ہے۔ اس بدبودار نظام نے آئین کو مقدس کا اسلامی ٹچ  اوراس قدر پیچیدہ سسٹم بنایا،اس میں ایک فل سٹاپ اور کومہ کی تبدیلی کے لیے جتنی محنت درکار ہے وہ صرف مارشل لا ہی سے ممکن ہے۔ ۔وزیراعظم ہو کر بھی چاہے نواز ہو چاہے عمران ان کے در کا سوالی۔۔۔

مقدس ایوان والے نجس لوگ ہی اصل مرض ہیں

خطرہ آئین کو نہیں آئین نافذ ہو جانے کا ہے۔

اس گٹرکی صفائی اندر سے ممکن نہیں ۔۔۔۔۔

 پاکستان کو خطرہ اس نظام سے ہے ۔۔۔۔

آپ بھی اسی فارمولے کے تحت سیاستدانوں اور میڈیا کے مخالف دیکھیں۔۔۔۔

 جانتے جائیں اور شرماتے جائیں۔۔۔

آج کا میلہ شہباز گل ہے ۔۔۔۔

ڈھول بج رہا ہے ۔۔۔۔۔

 میلہ لگا ہے ۔۔۔۔

دھمال کرتے ہیں ۔۔۔۔

آئیں  کمال کرتے ہیں ۔۔۔

admin

http://fruit-chat.com

میری موج میری سوچ

3 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *