اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھا – منیر نیازی

اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھا

 

اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھا

یہ تماشا تھا یا کوئی خواب دیوانے کا تھا

 

سارے کرداروں میں بے رشتہ تعلق تھا کوئی

ان کی بے ہوشی میں غم سا ہوش آ جانے کا تھا

عشق کیا ہم نے کیا آوارگی کے عہد میں

اک جتن بے چینیوں سے دل کو بہلانے کا تھا

خواہشیں ہیں گھر سے باہر دور جانے کی بہت

شوق لیکن دل میں واپس لوٹ کر آنے کا تھا

لے گیا دل کو جو اس محفل کی شب میں اے منیر

اس حسیں کا بزم میں انداز شرمانے کا تھا

منیر نیازی

admin

http://fruit-chat.com

میری موج میری سوچ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *