ثواب کہاں کیا عذاب ہوتا ہے — وسیم بریلوی

کہاں ثواب کہاں کیا عذاب ہوتا ہے
محبتوں میں کب اتنا حساب ہوتا ہے

بچھڑ کے مجھ سے تم اپنی کشش نہ کھو دینا
اداس رہنے سے چہرا خراب ہوتا ہے


اسے پتا ہی نہیں ہے کہ پیار کی بازی
جو ہار جائے وہی کامیاب ہوتا ہے


جب اس کے پاس گنوانے کو کچھ نہیں ہوتا
تو کوئی آج کا عزت مآب ہوتا ہے


جسے میں لکھتا ہوں ایسے کہ خود ہی پڑھ پاؤں
کتاب زیست میں ایسا بھی باب ہوتا ہے


بہت بھروسہ نہ کر لینا اپنی آنکھوں پر
دکھائی دیتا ہے جو کچھ وہ خواب ہوتا ہے


وسیم بریلوی

admin

http://fruit-chat.com

میری موج میری سوچ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *