تیری نظر کا رنگ بہاروں نے لے لیا – ساغرصدیقی

تیری نظر کا رنگ بہاروں نے لے لیا

تیری نظر کا رنگ بہاروں نے لے لیا

افسردگی کا روپ ترانوں نے لے لیا

 

جس کو بھری بہار میں غنچے نہ کہہ سکے

وہ واقعہ بھی میرے فسانوں نے لے لیا

 

شاید ملے گا قریۂ مہتاب میں سکوں

اہل خرد کو ایسے گمانوں نے لے لیا

 

یزداں سے بچ رہا تھا جلالت کا ایک لفظ

اس کو حرم کے شوخ بیانوں نے لے لیا

 

تیری ادا سے ہو نہ سکا جس کا فیصلہ

وہ زندگی کا راز نشانوں نے لے لیا

 

افسانۂ حیات کی تکمیل ہو گئی

اپنوں نے لے لیا کہ بیگانوں نے لے لیا

 

بھولی نہیں وہ قوس قزح کی سی صورتیں

ساغر تمہیں تو مست دھیانوں نے لے لیا

مزید پڑھیں

admin

http://fruit-chat.com

میری موج میری سوچ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *