کوفہ والے کون تھے؟

کوفہ کا شہر انتظامی بنیادوں پرآباد کیا گیا ، اس شہر کو بعد ازاں تاریخی حیثیت بھی حاصل رہی۔

لیکن کوفہ کو ضرب المثل بنایا ، انکے اس رویہ نے، جو حضرت امام حسین کی شہادت کا سبب بنا، کوفہ والے تاریخ کا حصہ بنے اور رہیں گے۔۔۔۔۔

کون تھے کوفہ والے؟

کوفہ  ایک لفظ نہیں فلسفہ ہے ،

مسلم بن عقیل کو شہید کی گیا، انکے بچے جان بچانے کے لیے دربدر چھپتے رہے.

 لیکن پورے شہر مسلمان میں اک در نہ کھلا ان معصوموں کو پناہ

دیتا ۔۔۔۔۔

حضرت مسلم بن عقیل کو شہید کیا گیا۔

کوفی اچھے کی امید میں خاموش تھے

ان کے بچوں کو برلب دریا ذبح کیا گیا

 کوفی اچھے کی امید پر خاموش تھے

حضرت امام  حسین کو روکا گیا

کوفی اچھے کی امید میں خاموش تھے

حضرت حسین  کا قافلے پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹے

مگر کوفی اچھے کی امید پر خاموش تھے

آل رسول پر پانی بند ہوا

کوفی اچھے کی امید میں خاموش تھے

سادات کے خیموں کو آ گ لگی

لیکن کوفی اچھے کی امید میں خاموش تھے

ننگے سرسیدانیاں , اور سر نیزے پر حسین کا ۔۔

لیکن کوفی اچھے کی امید پرخاموش تھے

تاریخ گواہ ہے ، یزیدی کبھی جرات نہ کرتے

 اگر کوفی صرف آ واز اٹھاتے

یزید کا نام و نشاں مٹ جاتا اگر کوفی تلوار اٹھا کر

علی کے بیٹے کے ساتھ آ ملتے

لیکن کوفہ والے اچھے کی امید میں خاموش تھے

کیا ان کوفیوں میں سے کوئی بھی اج  زندہ ہے

نہیں

انکی ہڈیاں تک گل چکی ہوں گی ، تو پھر وہ کیا اچھا تھا

جس کی امید تھی کوفی خاموش تھے ۔

ظلم کسی کے ساتھ بھی ہو ظلم ہی رہتا ہے

اور وہ معاشرے جہاں اچھے کی امید میں

ظالم کا ہاتھ نہیں روکا جاتا

 

ظالم سے بڑا ظالم ۔۔۔۔۔۔

ابھی کل کی بات ہے مسند اقتدار پر بیٹھے لوگ فرعون بنے تھے

اج انکا نام حقارت سے لیا جاتا ہے

کربلا میں اک شخص اور بھی تھا فوجی

یزیدی فوجی

 تنخواہ دار اس کا ساتھی ۔۔۔

اس کے تمام حکموں کو فوری ماننے ولا

اس نے روکا امام حسین کو

حکم کی تعمیل کی ، گھیراو کیا

لیکن کہیں سے کسی کو تو شروع کرنا تھا

موت سامنے تھی کوئی جائے پناہ نہ تھی

خود ہی تو جال بچھانے والا تھا

لیکن آ خری لمہے خد انے حق پر لڑنے کی توفیق دی

اور حضرت حسین کی طرف سے پہلا شہید ہوا۔۔۔

 میں نے آ ج تک حضرت حرپر کسی کو پر تبرہ کرتے نہیں دیکھا

کیا اچھا تھا جوحضرت حر نے دیکھا

اور زندگی پر موت کو فوقیت دی

وقت آ تا ہے اور گزر جاتا ہے ۔

ہمارے رویے یہ فیصلہ کرتے ہیں ہم کس طرف کھڑے ہیں  ۔

معلوم ہے میری آ واز سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا

جس امت  میں حضرت امام حسین پر ہونے والے ظلم پر اتفاق  نہ ہو سکا تو اج پر  کیوں ۔۔۔

 

مشاہد اللہ خان مرحوم کے نام

مشاہد اللہ خان مرحوم کا ایک کلپ سوشل میڈیا نظر سے گزرا  ۔۔۔۔

زندہ ہوتے تو اپنی بات مکمل ہوتی دیکھتے

انہوں نے جو کہا تھا درست کہا تھا

لیکن نامکمل بات کو پورا کرتے

دیکھتے کہ انکے ساتھی پھر یزید سے جا ملے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

کہ کل تک انکے ساتھ بیٹھے لوگ  اج پھر قبلہ تبدیل کر بیٹھے ہیں ۔۔۔۔

یہی  وہ کوفہ والے ہیں

جو کئی بار ظلم سہہ کر دوسروں کے ساتھ ہوتا دیکھ خوش ہوتے ہیں

اچھے کی امید میں خوش رہتے ہیں

 

ہاں وہی کوفہ والے جب جہاد واجب ہو جاتا ہے تو 100رکعت نفل کی نیت کرتے ہیں ۔

۔

میں کم علم آدمی ہوں لیکن ا تںا جانتا ہوں یہ ملک اللہ کے دین کے نام پر بنا

اور یہاں باقاعدہ رب کے غضب کو با جماعت دعوت دیتے ہین

 قرآن کی جگہ آئین   مقدس ٹھرایا

مسجد کی جگہ ایوان کا تقدس مقدم

 

کوفہ والے اچھے کی امید میں خاموش تھے

کیون نہ غرق ہوں اچھے کی امید میں خوش رہنے والے

 مدینہ لفظ کا بھی مذاق بناتے ہیں جس کی نسبت ہی رسول سے ہے

  کیچڑ کا شہریثرب مدینہ اس دن بناجس دن آقا کا قدم مبارک پڑا

جب کسی معاملہ میں تصفیہ نہ ہو رہا ہو حلف کا فیصلہ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔

اور میں نے دیکھا ہے حلف دینے والا پہلا  قدم اٹھاتا  ہے

تو فورا ہر کوئی روک دیتا ہے کہ حلف ہو گیا

سوچیے مقد س آئین پر چلنے والے

مقدس ایوان میں کھڑے ہو کر

قرآنی آیات کے سائے میں

مسلسل جھوٹ بولا لکھا اور ظلم کو قانون بنایا جاتا ہے

سوچیے رب کے قہر کو خود عوت دیتے ہیں

سر پر  قرآن کی بھی لاج نہیں رکھتے

کون اتنا ظالم ہو سکتا ہے قرآن کے سائے میں کھڑا ہو کر نسبت رسول کا مزاق ڑائے

ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ غزوہ ہند ہم نہیں لڑیں گے ہم سے لڑا جاے گا۔۔۔۔

کمزور آدمی یوں

حسینی بننا میرے بس کاکہاں دعا ہے

کوفہ والوں کی ظرح اچھے کی امید والوں میں نہ ہوں

 حضرت حر کی صف میں گنتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Naveed

I am an ordinary man.

Related post