کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

پاکستان کے حالات تیزی سے بد سے بدتریں کی طرف جا رہے ہیں،

نئے سے نئے ریکارڈ قایم ہو رہے ہیں۔

قانون آئین اور ضابطہ ہوا ہو چکا ہے۔

پچھلے چند دنوں کی خبریں شائد بات سمجھا دیں

دنیا کی نامور ڈیٹ مینجمنٹ سروس مہیا کرنے والے روتچائلڈ اینڈ کو، پہلی مرتبہ پاکستان ائے ہیں۔ 

اور میاں محمد شہباز شریف صاحب سے ملاقات کی۔ 

روتھ چائلڈ دنیا کی طاقتور یہوری فیملی بلکہ کہا جائے تو عالمی بنکاری اور سرمایہ داری نظام کو بنانے والے ہین ۔ 

دنیا کے کئی ممالک میں روتھ چائلڈ اپنی خدمات دے چکے ہیں اور انکا طریقہ کار ائی ایم ایف سے تھوڑا الگ ہے۔ 

انکے پاس کئی حل اور طریقہ کار ہیں،مثال کے طور پر uae کے بنک سے ڈیل کر لیں 3 ارب قرض کے بدلے نقد ڈھائی ارب دے کر بنک کا قرض اپنی طرف منتقل کریں اور پھر نظام کو خود سیدھا کر کے اپنی ریکوری کریں ۔ 

نئے بانڈز و دیگر تمام وسائل بھی استعمال کر سکتے ہیں اور کئی ممالک میں کر بھی چکے ہی۔ 

تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی کے وفد کو  جوہری تنصیبات  کے دورے کی اجازت دی۔ 

یاد رہے قبل ازیں کئی مرتبہ پاکستان پر جوہری تنصیبت کی رسائی ومعائنہ کے لیے دباو رہا لیکن پاکستان ہمیشہ انکار کرتا رہا۔ئ 

سفارتی آداب کو بلائے طاق رکھ کر پاکستان کے وزیراعظم نے امرہکی سفارت خانہ میں جاکر ایک امریکی سینیٹر سے ملاقات کی ملاقات میں سئینر وزرا ہمراہ تھے۔ 

اور فورا امریکی صدر نے پاکستان کو مشکل وقت میں ساتھ دینے کا عزم کر لیا۔  

Mian Raza Rabbani, Former Chairman Senate, has issued the following press statement;

The dragging of the feet by the IMF on signing the Agreement and reluctance of friendly countries, except China, to help sans the IMF, Parliament needs to be taken into confidence. It appears Pakistan is being softened up to play a role that is against its national and strategic interests. The people have a right to know if, our nuclear assets are under pressure, or is our strategic relationship with China is under threat or our we are being called up to play role in the region which will facilitate the military presence of an Imperialist power? These and other questions require a policy statement by the Prime Minister on the floor of a joint sitting.

The question of the TTP and increase in terrorism has also found no discussion or briefing from the Government.It seems be it the PTI or present governments want azadi from Parliament and theConstitution, 1973

6 march 2023

امریکی صدر کا پاکستانی ایٹمی اثاثہ جات کے بارے میں موقف 

ایوان بالا میں میزائل پراگرام اور اس کی رینج کی بابت آئی ایم ایف کے معاہدے پر تبصرے۔

اچانک ڈالروں کی آمد اور ڈرون حملوں کا آغاز 

زلمے خلیل کی رونمائی اور پاکستان اور جمہوریت کو درپیش خطرات 

مسلسل جمہوریت کا راگ آلپتی پارٹیاں آمروں سے بد تو ہو جانا

مقدس آئین میں تبدیلیاں کرنے کی باتیں ہونا۔

صدر مملکت کو ہٹانے کا کوئی قانون نہ پا کر چیف جسٹس کی طرف توپوں کا رخ ہونا۔

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

کچھ تو اتنا بڑا ہے جس کو چھپانے کے لیے اتنی ہی بڑی دھول کی چادر ر دکار ہے۔

پاکستان اس کو بنانے والوں کی عشق کی داستان ہے۔

آنا کی جنگ میں اکثر محبت ہار جاتی ہے۔

Naveed

I am an ordinary man.

Related post