سوال بن جانے سے قبل سوال کریں

تدریس سے وابستہ افراد جانتے ہیں کہ سوال کس قدر اہم ہوتے ہیں، سوال ہی پیمانہ ہیں ماپنے کا کسی طالب کی صلاحیت اور دلچسپی کو۔

سوال بن جانے سے قبل سوال کریں۔

گزرے زمانوں میں ایک ملک میں ہر دن افراتفری رہتی تھی، حالات ابتر اور ہر پل غیر یقینی کی صورت حال۔۔

چند بڑوں نے فیصلہ کیا کہ اگلے دن مشرق کی سمت سے جو بھی پہلے نظر آئے گا اسکو اس ملک کی بھاگ دوڑ دے دی جائے گی ۔

تمام لوگ اگلے دن انتظار کرنے لگے تو تھوڑی دیر بعد ایک بوریہ نشین آتا نظر آیا،اسکو زبردستی پکڑا اور

 ملک کا بادشاہ بنا دیا سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔

تھوڑے عرصہ بعد دشمنوں نے حملہ کیا، آرمی چیف بھاگا آیا حکم لینا چاہا تو بادشاہ نے کہا 

حلوہ پکاواور سب کو کھلاو ۔

جب فوجیں قریب آگئیں تب پھر یہی عمل دہرایا گیا۔

بادشاہ نے حکم دیا حلوہ پکاو اور کھاو۔

جب فوجیں شہر کا دروازہ توڑنے لگی تو تمام وزرا اور مشیر اکھٹے ہوئے، بادشاہ سے پوچھا کہ اب کیا کرنا ہے؟

بوریہ نشین اٹھا اور اپنی چادر جھاڑ کے چل دیا کہ میرا کام تو نہیں تھا شہر کی حفاظت

اگر سب اپنا اپنا کام کرتے تو یہ نوبت نہ آتی۔

وطن عزیز پاکستان کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

ہم اسقدر نااہل ہیں کہ کام کرنا یا مہارت دور کی بات کام کی نوعیت بھی نہیں جانتے؟

 سیاست کا ذکر کریں تو کبھی آپ نے غور کیا ہے،کہ گنتی کے 15/20 بندے ہیں، جو کبھی ایک پارٹی کی طرف سے بات کرتے ہیں کبھی دوسری،

 باقی سینکڑوں عوامی نمائنوں کی کبھی کسی نے آواز بھی نہیں سنی۔

بلدیاتی انتخابات نہ کروا کر انتہائی مہنگی تنخواہ پر ہم اپنے ایسے نمائندگان منتخب کرتے ہیں جنکی سیاست صرف جنازؤں میں شرکت اور مخالفیں کو نیچا دکھاتے گزرتی ہے ۔ 

فنڈز کا استعمال دکھانے کے لیے عوام پرکمال مہربانی کرتے ہوئے الیکشن کے قریب چند گٹروں کے ڈھکن ئئے لگوا کر داد سمیٹی جاتی ہے۔

حکومت کوئی بھی ہو وزیر خزانہ ہمیں غیرعوامی اور کئی مرتبہ امپورٹڈ رکھنا پڑتا ہے۔

ہر ادارہ اپنا کام چھوڑ کر دوسروں کے کام میں ٹانگ اڑانا پسند کرتا ہے ۔

سوسائٹی میں کوئی اک پہلو ایسا نہ چھوڑا کہ نرمی اور خوشی حاصل ہو۔

سکول کالج کے بچوں کو ہنستا کھلتا دیکھ کر ہماری عظیم روایات کوخظرہ لا حق ہو جاتا ہے۔۔

تعلیم میں ناکامی سائنس سے دوری کا زمہ دار ہمیں سیاست دان لگتا ہے۔

دین سے دوری ٹی وی کی وجہ سے ہے۔

ملاوٹ رشوت اور جھوٹ کا زمہ دار امریکہ اور اسرائیل ہے۔

سقراط کو فلسفہ کا بانی مانا جاتا ہے۔

 لیکن سقراط کی کوئی کتاب موجود نہیں،سقراط اپنے شاگردوں کے ساتھ گھومتا رہتا

 اور جیسے ہی کوئی سوال کرتا کیسا ہی سوال کیوں نہ ہو اس پر غور و فکر ہوتا اور اور علم کے چشمے بہہ نکلتے۔

اہل علم کہتے ہیں،

سوال آدھا علم ہوتا ہے۔

میں کہتا ہوں ۔۔باقی کآ آدھا علم اس میں ہے کہ سوال کرنا کس سے ہے؟

جس دن فزکس کے پروفیسر سے پوچھ لیا کہ ایک سوئچ تک خود بدل نہیں سکتے پڑھاتے کیا ہو؟

جس دن یہ پوچھ لیا کہ عام آدمی کے تمام مسائل کا حل کچہری،تو میجسٹریٹ کی عدالت پر توجہ کیوں نہیں دی جاتی؟

تھانوں کی کرپشن کی شور مچانے والے سے تھانہ کے بجٹ کا سوال کر لیا۔

مذہب سے دوری کی بابت مولانا سے باز پرس کی۔

سیاست دان سے اسکی کارکردگی بلدیہ سے ہٹ کر پوچھی۔

رپوٹر سے پوچھا کہ صرف فیڈ شدہ خبرون پر اپنے نام لکھنے کے علاوہ فالو اپ اور کبھی خود بھی کہانی تلاشی؟

فوجی سے کاروبار نہین دفاع کا پوچھا۔

بیوروکریٹ سےناکام اور غلظ منصویہ بندی  سے لگنے والے منصوبوں کا پوچھا۔

سب ٹھیک ہو جائے گا۔

ہر شخص اپنا کام خراب کر کے دوسرے میں کیڑے نکال رہا ہے۔

جیسے حمام میں اپنا ننگا جسم چھوڑ باقی سب کا نظر ارہا ہے۔

اس قدر بےحس جانے کب سے ہو گئے،1971 کے بعد کا شائد بدترین سانحہ ہو گزرا ہے۔

 ۔بیس سال سے لڑئ جانے والی جنگ ہار دی گئی ہے اور جس طریقہ سےہاری گئی ہے۔

نیازی کا سرنڈر بھی شائد عزت والا تھا ۔

،اک شکن تک نہین آئی کسی کے ماتھے پر

اگر روش نہ بدلی توکیا ہو گا پاکستان کا مستقبل،ہم آنے والی کسی قوم کے لیے ہسٹری کا سوال بن کر رہ جائیں گے۔

مزیدپڑھیں ۔

Naveed

I am an ordinary man.

Related post